افغانستان میں زمانہ قدیم سے آباد عرب
(مترجم : فیروز اپریدی)
افغانستان کے مختلف صوبوں(بلخ او جوزجان) میں زمانہ قدیم سے اباد عرب اب بھی اپس میں عربی زبان میں بات کرتے ہیں۔
صوبہ بلخ کے دولت اباد ضلع میں زمانہ قدیم سیاباد عربوں نے گو اپنے رسم و رواج ترک کردئے ہیں مگر اپس میں اب بھی عربی میں گفتگو کرتے ہیں۔
تقریبا سات 700سو سے اوپر خاندان خوشحال اباد اور یخدان نام کے دو گاوں میں اباد ہیں۔
ا عربوں کے اجداد حضرت عثمان رضی اللہ تعالی کے زمانے میں افغانستان کے فتح کے بعد بغرض تبلیغ اپنے خاندانوں سمیت ائے ہوئے تھے۔
خوشحال اباد گاوں کے ایک بزرگ نے اپنا تعارف عربی زبان میں اس طرح کیا:
: (اسمي ضياد الل? بن عبدالروف من قري? خوشحال اباد و ??ذا قري? دار خوشحال اباد.)، ((میرا نام ضياد الل? بن عبدالروف ہے. خوشحال اباد گاوں سے تعلق ہے.))
انہوں نے کہا کہ ہمارا بچے پہلے عربی سیکھتے ہیں اور بعد میں دوسرے رائج زبانیں سیکھتے ہیں۔
ضیاد کہتا ہے کہ اب بھی گاوں میں ایسی عورتیں ہیں جو عربی زبان میں بات کرتے ہیں عربی کے علاوہ کسی دوسری زبان میں بات نہیں کرسکتے۔
انہوں نے کہا کہ انکی 92 سالہ بزرگ دادی عربی کے علاوہ کسی اور زبان کو نہیں جانتی۔
ضیاد کو اندیشہ ہے کہ انکی زبان یہاں کے اباد عربوں میں مٹنے والی ہے کیونکہ عربی کو ترقی اور ترویج کے لئے کوئی سہولت نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انکے بچے سکولوں میں دری، فارسی میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اس لئے فارسی اور دوسرں زبانوں کی اثر سے اپنی زبان بھول رہے ہیں۔
خوشحال اباد کے بزرگ نے بتایا کہ اگر حکومت نے انکی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے سہولت فراہم کی تو شائید انکی زبان مٹنے سے بچ جائے۔
بلخ کے محکمہ تعلیم کے رئیس محمد ظاہر پنھان کہتاہے کہ ہماری وزارت کی توجہ اس بات پر ہے کہ دری اور پشتو کے علاوہ دوسری مادری زبانوں میں بھی کتابیں چھاپی جائیں۔
اور اسے سکولوں اور دوسرٰے تعلیمی اداروں میں پہنچائیں۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ان زبانوں میں عربی شامل نہیں ہے۔
ان عربوں نے اپنے طور پر اپنی زبان کو قائم ضرور رکھا ہوا ہے مگر انکی رواجیں تقریبا ختم ہونے والی ہیں جبکہ اکثر لوگوں نے افغانی رواج اپنایا ہوا ہے۔
یخدان گاوں کے 63 سالہ محمد صدیق نے کہا کہ اب ہم چونکہ افغان ہیں اس لئے افغانستان میں عربوں کانہیں بلکہ افغانی رواج کو اپنایا ہوا ہے
. انہوں نے کہا کہ مجھے یاد ہے کہ کس طرح ہم شادی بیاہ میں اپنی رواج کے مطابق دلہن کو جب میکے سے روانہ کرتے تھے تو سسرال کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے گھوڑے پر بیھٹا دیتے تھے۔
پہر دولہا گھوڑا پکڑ کر اگ کے ارد گرد سات پھیرے لگا دیتا تھا۔اخیر میں دلہن کو گھوڑے سے اترواکر گود میں اٹھا کر اپنے عروسی کمرے تک لے جایا جاتا تھا؛
حاجی صدیق نے بتایا کہ مجھے یاد ہے کہ بیمار بچوں کی صحتیابی کے لئے ٹوٹکے استعمال کرتے تھے۔
گاوں میں ایک درخت کی شاخ کے ساتھ جھولا لٹکھاتے تھے پھر اس جھولے میں بیمار بچے کو ڈال کر روشن کی ہوئی شمع جھولے کے ارد گرد گھماتے پھرتے تھے۔
لوگوں کا عقیدہ ہوتا تھا کہ اس طرح سے بیمار بچے صحت یاب ہوجائیں گے۔
يخدان گاوں کے بزرگ 62 سالہ محمد نادر نے کہا کہ ہمارے اقتصادی مشکلات بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری گزر بسر زمینی محصلات پر ہیں۔
مگر اب زمینوں او پانی کی کمی سے یہ مشکلات کچھ زیادہ بڑھ گئی ہیں۔
خوشحال اباد گاوں کے جامع مسجد کے خطیب ۸۳ سالہ محمد مختار اپنے خاندان کے اباد ہونے کا تذکرہ کرتے ہوے کہتے ہیں کہ ہمیں مصدقہ طور پر معلوم نہیں مگر سینہ بہ سینہ چلی ائی ہوئی روایات سے پتہ چلتا ہے کہ ہم اہل القریش ہیں
بلخ کے وزارت اطلاعات اورثقافت کے رءيس صالح محمد خليق نے ان عربوں کے بارے میں کہا کہ تاریخی شواہد سے اشارے ملتے ہیں کہ یہ لوگ افغانستان کے فتح کے لئے ائے ہوئے لشکر کے ساتھ شامل مبلغین کے نسلوں میں سے ہیں۔
انہون نے مزید کہا کہ ان عربوں کی زبان اب خالص نہیں ہے بلکہ یہ بگڑی ہوء ٹھوٹی پھوٹی عربی میں بات کرتے ہیں۔
بلخ کے علاوہ جوزجان میں اباد عرب بھی عربی میں بات کرتے ہیں۔.
خوشحال اباد گاوں کے بزرگ ضياد نے کہا کہ شبرغان کے حسن اباد اور داقچی اور سلطان اريغ گاوں کے باسی سب عرب ہیں.
انہوں نے کہا کہ ان چاروں گاوں میں انکا اپس میں رابطہ ہے او ایک دوسرے کے غمی اور خوشی میں برابر کے شریک ہوتے رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم انہی چاروں گاوں کے لوگ اپس میں رشتے اور شادی بیاہ کرتے ہیں۔۔
(پشتو سے اردو ترجمہ)
صوبہ بلخ کے دولت اباد ضلع میں زمانہ قدیم سیاباد عربوں نے گو اپنے رسم و رواج ترک کردئے ہیں مگر اپس میں اب بھی عربی میں گفتگو کرتے ہیں۔
تقریبا سات 700سو سے اوپر خاندان خوشحال اباد اور یخدان نام کے دو گاوں میں اباد ہیں۔
ا عربوں کے اجداد حضرت عثمان رضی اللہ تعالی کے زمانے میں افغانستان کے فتح کے بعد بغرض تبلیغ اپنے خاندانوں سمیت ائے ہوئے تھے۔
خوشحال اباد گاوں کے ایک بزرگ نے اپنا تعارف عربی زبان میں اس طرح کیا:
: (اسمي ضياد الل? بن عبدالروف من قري? خوشحال اباد و ??ذا قري? دار خوشحال اباد.)، ((میرا نام ضياد الل? بن عبدالروف ہے. خوشحال اباد گاوں سے تعلق ہے.))
انہوں نے کہا کہ ہمارا بچے پہلے عربی سیکھتے ہیں اور بعد میں دوسرے رائج زبانیں سیکھتے ہیں۔
ضیاد کہتا ہے کہ اب بھی گاوں میں ایسی عورتیں ہیں جو عربی زبان میں بات کرتے ہیں عربی کے علاوہ کسی دوسری زبان میں بات نہیں کرسکتے۔
انہوں نے کہا کہ انکی 92 سالہ بزرگ دادی عربی کے علاوہ کسی اور زبان کو نہیں جانتی۔
ضیاد کو اندیشہ ہے کہ انکی زبان یہاں کے اباد عربوں میں مٹنے والی ہے کیونکہ عربی کو ترقی اور ترویج کے لئے کوئی سہولت نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انکے بچے سکولوں میں دری، فارسی میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اس لئے فارسی اور دوسرں زبانوں کی اثر سے اپنی زبان بھول رہے ہیں۔
خوشحال اباد کے بزرگ نے بتایا کہ اگر حکومت نے انکی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے سہولت فراہم کی تو شائید انکی زبان مٹنے سے بچ جائے۔
بلخ کے محکمہ تعلیم کے رئیس محمد ظاہر پنھان کہتاہے کہ ہماری وزارت کی توجہ اس بات پر ہے کہ دری اور پشتو کے علاوہ دوسری مادری زبانوں میں بھی کتابیں چھاپی جائیں۔
اور اسے سکولوں اور دوسرٰے تعلیمی اداروں میں پہنچائیں۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ان زبانوں میں عربی شامل نہیں ہے۔
ان عربوں نے اپنے طور پر اپنی زبان کو قائم ضرور رکھا ہوا ہے مگر انکی رواجیں تقریبا ختم ہونے والی ہیں جبکہ اکثر لوگوں نے افغانی رواج اپنایا ہوا ہے۔
یخدان گاوں کے 63 سالہ محمد صدیق نے کہا کہ اب ہم چونکہ افغان ہیں اس لئے افغانستان میں عربوں کانہیں بلکہ افغانی رواج کو اپنایا ہوا ہے
. انہوں نے کہا کہ مجھے یاد ہے کہ کس طرح ہم شادی بیاہ میں اپنی رواج کے مطابق دلہن کو جب میکے سے روانہ کرتے تھے تو سسرال کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے گھوڑے پر بیھٹا دیتے تھے۔
پہر دولہا گھوڑا پکڑ کر اگ کے ارد گرد سات پھیرے لگا دیتا تھا۔اخیر میں دلہن کو گھوڑے سے اترواکر گود میں اٹھا کر اپنے عروسی کمرے تک لے جایا جاتا تھا؛
حاجی صدیق نے بتایا کہ مجھے یاد ہے کہ بیمار بچوں کی صحتیابی کے لئے ٹوٹکے استعمال کرتے تھے۔
گاوں میں ایک درخت کی شاخ کے ساتھ جھولا لٹکھاتے تھے پھر اس جھولے میں بیمار بچے کو ڈال کر روشن کی ہوئی شمع جھولے کے ارد گرد گھماتے پھرتے تھے۔
لوگوں کا عقیدہ ہوتا تھا کہ اس طرح سے بیمار بچے صحت یاب ہوجائیں گے۔
يخدان گاوں کے بزرگ 62 سالہ محمد نادر نے کہا کہ ہمارے اقتصادی مشکلات بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری گزر بسر زمینی محصلات پر ہیں۔
مگر اب زمینوں او پانی کی کمی سے یہ مشکلات کچھ زیادہ بڑھ گئی ہیں۔
خوشحال اباد گاوں کے جامع مسجد کے خطیب ۸۳ سالہ محمد مختار اپنے خاندان کے اباد ہونے کا تذکرہ کرتے ہوے کہتے ہیں کہ ہمیں مصدقہ طور پر معلوم نہیں مگر سینہ بہ سینہ چلی ائی ہوئی روایات سے پتہ چلتا ہے کہ ہم اہل القریش ہیں
بلخ کے وزارت اطلاعات اورثقافت کے رءيس صالح محمد خليق نے ان عربوں کے بارے میں کہا کہ تاریخی شواہد سے اشارے ملتے ہیں کہ یہ لوگ افغانستان کے فتح کے لئے ائے ہوئے لشکر کے ساتھ شامل مبلغین کے نسلوں میں سے ہیں۔
انہون نے مزید کہا کہ ان عربوں کی زبان اب خالص نہیں ہے بلکہ یہ بگڑی ہوء ٹھوٹی پھوٹی عربی میں بات کرتے ہیں۔
بلخ کے علاوہ جوزجان میں اباد عرب بھی عربی میں بات کرتے ہیں۔.
خوشحال اباد گاوں کے بزرگ ضياد نے کہا کہ شبرغان کے حسن اباد اور داقچی اور سلطان اريغ گاوں کے باسی سب عرب ہیں.
انہوں نے کہا کہ ان چاروں گاوں میں انکا اپس میں رابطہ ہے او ایک دوسرے کے غمی اور خوشی میں برابر کے شریک ہوتے رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم انہی چاروں گاوں کے لوگ اپس میں رشتے اور شادی بیاہ کرتے ہیں۔۔
(پشتو سے اردو ترجمہ)


No comments