راؤ انوار کے گن مین کے سنسنی خیز انکشافات
:(تحریر : یاسررسول)
علی رضا ہزارہ کو دو ہاتھ لگنے پر اس نے جو سچ اگلا اس کے مطابق :
٭ میں "علی رضا ہزارہ" 2001 سے راؤ انوار کا گن مین رہا ہوں اور ہر جعلی مقابے میں اس کے ساتھ ہوتا تھا۔ ہر مقابلے کا عینی گواہ ہوں
٭ ہمارا چھے ممبران پر مشتمل ڈیتھ سکواڈ تھا جس کے ممبران ڈی ایس پی قمر احمد ( جس کو حال ہی میں سندھ پولیس نے گرفتار کیا)، سب انسپکٹر شعیب شوٹر، سب انسپکٹر امان اللہ مروت۔ سب انسپکٹر علی اکبر ملاح، سب انسپکٹر انار خان اور انسپکٹر خان نواز شامل تھے۔ اس گروہ کا سرپرست راؤ انوار خود ہوتا تھا۔
٭ گروہ نے ایک خفیہ ڈیتھ سیل یعنی کال کوٹھری سپر ہائے وی پر راؤ انوار کی آفیس کے قریب بنا رکھی تھی جس کا انچارج سب انسپکٹر انار خان ہوتا تھا۔
٭ بندوں کو اغوا کرکے لانا، ڈیتھ سیل میں بند کرنا اور جعلی مقابلے میں مارنے کے لیے جگہ کا تعین کرنے کا کام سب انسپکٹر شیعب شوٹر کا تھا۔
٭ جہاں پر جعلی مقابلا کرنا ہوتا اس گھر کے اطراف کو پہلے خالی کروالیا جاتا، گھر میں پرانہ کباڑیہ سامان اور چارپائی کچھ راشن وغیرہ پہلے ہی رکھوا دیا جاتا تاکہ بندے کو مارنے کے بعد یہ تاثر دیا جاسکے کہ دہشت گرد کافی وقت سے یہاں پر مقیم تھا۔ پھر گھر میں لاکے قتل کرتے تو راؤ انوار میڈیا میں موجود اپنے آدمیوں کو بلاکر اعلان کرتا کہ ہم نے ایک دہشت گرد کو پولیس مقابلے میں مارا ہے۔
٭ جب ہم نے نقیب اللہ کو جعلی مقابلے میں قتل کیا تو اس وقت راؤ انوار خود بھی جاء واردات پر موجود تھا اور اہلکاروں کو ہدایات دے رہا تھا۔ دوستو ! یہ انکشافات راؤ انوار کے ذاتی گن میں علی رضا ہزارہ کے ہیں جو سن 2001 سے راؤ انوار کے ساتھ ہر جعلی مقابلے میں شریک رہا تھا۔ راؤ انوار کی روپوشی کے بعد یہ بھی چھپکے سے بلوچستان بھاگ گیا تھا کیونکہ یہ اصل میں بلوچستان پولیس کا کانسٹیبل تھا، اسے راؤ انوار ہی بلوچستان سے کراچی لیکر آیا تھا۔ راؤ کے بھاگ جانے کے بعد یہ بھی گرفتاری کے خوف سے واپس بلوچستان چلا گیا مگر ایجنسیوں نے اس کو ٹریس کرکے کوئٹہ ہزارہ ٹاؤن سے پکڑ لیا اور پہلی چھترول میں ہی اس نے سب کچھ اگل دیا۔ مزے کی بات یہ بھی ہے کہ راؤ انوار مسلسل نقیب اللہ کے قتل کے وقت اپنی موجودگی کا انکار کرتا آرہا تھا لیکن درحقیقت وہ وہاں موجود تھا، نہ صرف موجود تھا بلکہ اہلکاروں کو خود ہدایات بھی دے رہا تھا۔ اس بات کی تصدیق علی رضا ہزارہ نے بھی کی جبکہ سکیورٹی اداروں نے اب ایک وڈیو بھی ڈھونڈ لی ہے جس میں راؤ انوار نقیب اللہ کے قتل کی جاء واردات پر اپنے آدمیوں کو احکام جاری کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس وڈیو کا انکار راؤ انوار کا باپ بھی نہہں کرسکتا۔
٭ ہمارا چھے ممبران پر مشتمل ڈیتھ سکواڈ تھا جس کے ممبران ڈی ایس پی قمر احمد ( جس کو حال ہی میں سندھ پولیس نے گرفتار کیا)، سب انسپکٹر شعیب شوٹر، سب انسپکٹر امان اللہ مروت۔ سب انسپکٹر علی اکبر ملاح، سب انسپکٹر انار خان اور انسپکٹر خان نواز شامل تھے۔ اس گروہ کا سرپرست راؤ انوار خود ہوتا تھا۔
٭ گروہ نے ایک خفیہ ڈیتھ سیل یعنی کال کوٹھری سپر ہائے وی پر راؤ انوار کی آفیس کے قریب بنا رکھی تھی جس کا انچارج سب انسپکٹر انار خان ہوتا تھا۔
٭ بندوں کو اغوا کرکے لانا، ڈیتھ سیل میں بند کرنا اور جعلی مقابلے میں مارنے کے لیے جگہ کا تعین کرنے کا کام سب انسپکٹر شیعب شوٹر کا تھا۔
٭ جہاں پر جعلی مقابلا کرنا ہوتا اس گھر کے اطراف کو پہلے خالی کروالیا جاتا، گھر میں پرانہ کباڑیہ سامان اور چارپائی کچھ راشن وغیرہ پہلے ہی رکھوا دیا جاتا تاکہ بندے کو مارنے کے بعد یہ تاثر دیا جاسکے کہ دہشت گرد کافی وقت سے یہاں پر مقیم تھا۔ پھر گھر میں لاکے قتل کرتے تو راؤ انوار میڈیا میں موجود اپنے آدمیوں کو بلاکر اعلان کرتا کہ ہم نے ایک دہشت گرد کو پولیس مقابلے میں مارا ہے۔
٭ جب ہم نے نقیب اللہ کو جعلی مقابلے میں قتل کیا تو اس وقت راؤ انوار خود بھی جاء واردات پر موجود تھا اور اہلکاروں کو ہدایات دے رہا تھا۔ دوستو ! یہ انکشافات راؤ انوار کے ذاتی گن میں علی رضا ہزارہ کے ہیں جو سن 2001 سے راؤ انوار کے ساتھ ہر جعلی مقابلے میں شریک رہا تھا۔ راؤ انوار کی روپوشی کے بعد یہ بھی چھپکے سے بلوچستان بھاگ گیا تھا کیونکہ یہ اصل میں بلوچستان پولیس کا کانسٹیبل تھا، اسے راؤ انوار ہی بلوچستان سے کراچی لیکر آیا تھا۔ راؤ کے بھاگ جانے کے بعد یہ بھی گرفتاری کے خوف سے واپس بلوچستان چلا گیا مگر ایجنسیوں نے اس کو ٹریس کرکے کوئٹہ ہزارہ ٹاؤن سے پکڑ لیا اور پہلی چھترول میں ہی اس نے سب کچھ اگل دیا۔ مزے کی بات یہ بھی ہے کہ راؤ انوار مسلسل نقیب اللہ کے قتل کے وقت اپنی موجودگی کا انکار کرتا آرہا تھا لیکن درحقیقت وہ وہاں موجود تھا، نہ صرف موجود تھا بلکہ اہلکاروں کو خود ہدایات بھی دے رہا تھا۔ اس بات کی تصدیق علی رضا ہزارہ نے بھی کی جبکہ سکیورٹی اداروں نے اب ایک وڈیو بھی ڈھونڈ لی ہے جس میں راؤ انوار نقیب اللہ کے قتل کی جاء واردات پر اپنے آدمیوں کو احکام جاری کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس وڈیو کا انکار راؤ انوار کا باپ بھی نہہں کرسکتا۔
ایک آخری بات : آصف علی زرداری سے ایک ٹی وی اینکر نے راؤ انوار کے مطلق سوال کیا کہ راؤ آپ کے گھر میں چھپا ہوا ہے؟ تو آصف زرداری نے انکار نہیں کیا بلکہ جواب یہ دیا کہ راؤ بہادر بچہ ہے۔ اور راؤ کے حق میں لمبی تقریر بھی کر ڈالی۔ پوری قوم نقیب قتل پر اسے لعنت کر رہی تھی جبکہ واحد زرداری راؤ کی تعریف کر رہا تھا۔ یاد رہے میں شروع دن سے ہی کہتا آرہا ہوں کہ راؤ انوار کو زرداری نے ہی ملک ریاض کے "سیف ہاؤسز" میں چھپا رکھا ہے، راؤ انوار زرداری کا اہم ٹارگٹ کلر ہے اس کے زریعے زرداری نے سینکڑوں مخالفین کو ٹھکانے لگوایا ہے جبکہ ملک ریاض راؤ انوار کے زریعے لوگوں کی زمینوں پر قبضے کرواتا تھا، جو قبضہ نے دے راؤ کی ٹیم اسے اغوار کرکے ڈیتھ سیل منقتل کردیتی تھی اور اس سے چھوڑنے کے بدلے بھتہ مانگا جاتا تھا، نہ دینے پر جعلی مقابلہ کرکے قتل کردیا جاتا۔ بحریہ ٹاؤن کراچی کے اطراف کی زمینیں بھی مالکان سے ہتھیانے کے لیے راؤ انوار نے ہی ملک ریاض کی مدد کی تھی۔ اب اگر راؤ پکڑا جاتا ہے تو زرداری کے ساتھ ساتھ پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کی بھی شامت آئے گی اس لیے یہ دونوں راؤ کو ہر صورت بچانا چاہتے ہیں۔ راؤ کو انڈر گراونڈ رکھنے کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ اس کے کیس کو کمزور کیا جائے، پولیس کو استعمال کرکے شہادتیں مٹائی جائیں یا مارے جانے والوں کے لواحقین کو دیت پر راضی کرلیا جائے مگر تاحال سوائے پولیس کے کیس کمزور کرنے کے کچھ اور نہیں ہوسکا ہے۔ سندھ کی پولیس تو ہے ہی زرداری کی غلام سوائے آئی جی سندھ کے جس کو زرداری کئی مرتبہ ہٹانے کی کوششیں بھی کرچکا ہے مگر عدالت اسے پھر بحال کردیتی ہے۔ زرداری چاہتا ہے کہ آئی جی سندھ کو نکال دے اور پھر پولیس کو استعمال کرکے راؤ کیس کے شواہد مٹاکے کیس کو کمزور کردے۔ زردای نے ٹی وی پر آکر نقیب اللہ کے قاتل کو بہادر بچہ کہا، یہ زرداری کے دل کی بات تھی جو جوش میں آکر آخرکار زبان پر آ ہی گئی۔ یہ ایک واضع اشارہ ہے کہ زرداری ہی نقیب کا اصل آقا ہے۔
راؤ انوار کے گن مین علی رضا ہزارہ کے انکشافات آپ نے سن لیے، اسے زیادہ سے زیادہ شیئر کییجیے تاکہ نقیب اللہ کے قاتل راؤ انوار کے ساتھ ساتھ زرداری کی گردن پر بھی پھندہ ڈالا جاسکے۔

No comments