(جب طلبہ قانون ہاتھ میں لے
(ساجد علي مومند)
ہمارے تعلیمی اداروں کالجز اور یونیورسٹیوں میں کافی عرصے سے طلبہ کے یونین اور سیاسی پارٹیوں سے وابستگی کی بنا پر تعلیمی اداروں میں کھلم کھلا اسلحہ کی نمائش کا سلسلہ عرصہ دراز سے چلا آرہا ہے اور ان تعلیمی اداروں میں سیاسی وابستگی کی بنا پر سٹرائک اور دو طلبہ یونین کے درمیان ہاتھا پائی فائرنگ اور جلسے جلوس روز کا معمول بن چکا ہے ان تنظیموں کو سیاسی پنڈتوں کی پشت پناہی اور سپورٹ حاصل ہونا فطری امر ہے اور یہ ملک قوم اور والدین کے مستقبل اپنے اور پارٹی کے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور جب ان پر سیکورٹی ادارے ہاتھ اٹھا تے ہیں تو تھانہ تحصیل اور عدالت کی ذمہ داری بھی ان پنڈتوں کی مرہون منت ہوتی ہے جو روز روشن کی طرح عیاں ہے بعض اوقات ان تنظیموں پر پابندی بھی لگائی گئی تھی جو کہ بعد میں دوبارہ اٹھائی گئی لیکن ان تمام حامیوں کے علاوہ اب طلبہ ملکی قوانین کو بلاۓ طاق رکھتے ہوۓ اپنے اساتذہ کو قتل کرنے پر اتر اۓ ہیں جنکی زندہ مثال پرسوں ضلع چارسدہ کے تحصیل شبقدر میں ایک نجی کالج کے پرنسپل قاری سریر کو اپنے ایک شاگرد نے گولی مار کر نہ صرف قتل کر دیا بلکہ ان پر توہین رسالت کا الزام لگا کر بڑے فخر سے ان کو قتل کرنے کی ذمہ داری بھی قبول کر لی ہے یہ واقع شریف طلبہ کے دامن پر ایک بدنما داغ اور دھبہ بن گیا طالبعلم کی طرف سے اپنے استاد پر توہین رسالت کے الزام سے تو اس لیے اتفاق نہیں کیا جا سکتا کہ مقتول پرنسپل صاحب علم اور تعلیم دونوں سے مکمل طور پر باخبر اور پرہیزگار انسان کے طور پر جانے جاتے تھے معاملہ جو بھی ہوں ملزم پولیس کی خراست میں ہے اور تحقیقات جاری ہے لیکن اگر کہیں دوسرے موقعوں پر اگر ایسا واقع پیش بھی اجاۓ مثال کے طور پر جو کچھ عرصہ پہلے دیر میں پیش ایا تھا تو عوام نے بڑی مہارت کے ساتھ مجرم کو گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کر دیا جو اب ان پر قانون کے مطابق کیس چل رہا ہے لیکن بدقسمتی سے مردان یونیورسٹی میں مشال قتل کیس اور اب قاری سریر پر الزام لگا کر تعلیمی اداروں کے طلبہ جو خود قانون ہاتھ میں لیکر قتل کی فیصلے کرتے ہیں ان سے دیر کے عوام کا فیصلہ بہتر طور پر جانا جاتا ہے ٹیچر کی مثال ایک باپ کی مانند ہے جو اپنے شاگردوں کو اخلاق ادب اور درس و تدریس کی تعلیم دیتے ہے اور طلبہ کے مستقبل کو سنوارنے کی حتی الوسع کوشش کررہے ہے اگر ان اداروں میں سختی سے اسلحہ کی روک تھام اور طلبہ یونین پر سختی سے پابندی نہ لگائی گئی اور تعلیمی اداروں میں انے والے طلبہ کی تلاشی پر سختی سے عمل درامد شروع نہ کیا گیا تو تمام تعلیمی اداروں میں خفاظت سے تعلیم حاصل کرنے کا اعتماد نہ صرف شریف طلبا کا بلکہ والدین کا بھی اٹھ جاۓ گا جو کہ تعلیمی میدان میں سب سے بڑے نقصان کا باعث بنے گا۔۔۔۔

No comments